My journey in islam
۔۔۔۔ اسلام و علیکم
میں روز دعا کرتی تھی کہ یالله مجھے ہدایت دے۔۔۔ مجھے توفیق دے کہ میں اس کے صحیح راستہ پر ایمان لاو۔ لیکن ہدایت کا مفہوم اتنی اچھی طرح سے سمجھ نہیں پائی۔ پھر چند ہفتے پہلے میرا دل کسی باعث بوجھل تھا۔۔۔ اور اس رات زندگی میں پہلی بار یہ دعا کی کہ یارب میں تیرے لیے اس دنیا کو چھوڑ رہی ہوں۔ اس دنیا کی محبت یہاں کے لوگوں سے توقع، اپنی خواہشات سب کچھ صرف اور صرف تیرے لئے چھوڑ رہی ہوں۔اور ان سب کو میں نے دل سے معاف کر دیا جو میرے لئے کبھی دکھ اور انسو کے باعث ہوا کرتے تھے۔۔کہتے ہیں نہ ہدایت اس طرح ہمارے ہمارے اندر داخل نہیں ہوتی۔ اسے داخل ہونے کے لئے دل کا راستہ پاک کرنا پڑتا ہے۔۔ بھلا نفس اور میلے دل میں کبھی ہدایت داخل ہو سکتی ہے۔ خیر دوسرے دن مجھے وہ شرف حاصل ہوا کہ میں قرآن کو صحیح ترجمہ کے ساتھ پڑھوں۔ پہلی بار زندگی میں قران کو تھامتے ہوۓ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔ اس سے پہلے روزانہ تو پڑھ لیا کرتی تھی۔۔ لیکن وہ کیفیت اس وقت نہیں ہوئی جو اج مجھے ہو رہی تھی۔۔۔ خیر سورہ بقرہ کی پہلی ایت نے مجھے ہلا کر رکھا۔۔ الله فرماتا ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔۔ اگے لکھا تھا کہ یہ راہ بتلانے والی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔۔۔ ہیاں سوچنے والی بات ہے نا کہ کبھی ہم نے زندگی کے کسی موڑ پر یہ سمجھ کر پڑھا تھا کہ یہ ہمیں سیدھی راہ بتلائے گی۔۔ اگر یہ سوچ کر پڑھ لیا ہوتا تو اج ہم ساری زندگی دنیا کے پیچھے ہی نہیں بھاگتے۔۔ یا شاید ہمیں اپنے رب کا کوئی خوف نہیں تھا۔۔۔ یا پھر ہمیں اخرت کے دن پر ایمان نہیں تھا۔۔ اگر ہوتا تو ہم اس کے نازل کۓ ہوئے کتاب کے مطابق زندگی گزارتے۔۔ اسی قرآن کی ایتوں کو پڑھ کے ہمارے صحابہ لرز جاتے تھے۔۔ اور اج ہمارا حال دیکھو ہم قرآن کو روزانہ پڑھ رہے ہیں۔۔ ختم قرآن کرتے جارہۓ ہیں۔۔ کبھی ہمارا دل دہلا۔۔ کبھی اس کی ایک ایت پڑھ کے انسو ائے۔۔۔ ہمارے دل سخت ہوگئے ہیں۔۔۔ ہمیں اثر ہی نہیں ہوتا کہ اس نے کتنا دردناک عزاب بیان کیا ہے۔۔ جب میں نے دو صفحات پڑھے تو میں زار و قطار رونے لگی۔۔۔۔ شاید کتنے گھنٹے تک روتی رہی۔۔ پھر ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔۔ اور مجھے محسوس ہوا کہ شاید مجھے بخار ہونے کو ہے۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ اتنے سال تک میرا دل سخت تھا جس باعث قرآن کی ایت میرے دل میں میری زندگی میں نہیں اتر پائی۔۔ مجھے میرے ہر وہ گناہ یاد انے لگے جو میں نے جانے انجانے میں کئے تھے۔۔ جب میں نماز میں کھڑی ہوئی تو میرے پاؤں میں وہ ساکت نہیں تھی۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سامنے اللہ موجود ہو۔۔ اور میں اس کے سامنے مجرم بن کے کھڑی ہوئی ہوں۔۔۔ ٹوٹے اور اہستہ الفاظ میں پڑھ رہی تھی۔۔ مانو مجھ میں ندامت سے لب ہل بھی نہیں پا رہے ہو۔۔ وہ نماز میری کافی لمبی ہو گئ۔۔ اور نماز کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ اخرت کے وقت ہمیں بارگاہ میں اسی طرح سر جکھائے حضوری پیش کرنی ہے۔ تب ہمارا فیصلہ کا دن ہوگا۔۔ نہ معافی مانگنے کا وقت ہوگا۔ اور بہانے بنانے کا وقت ہوگا۔۔ پر اج مجھے یہ توفیق نصیب ہوئی کہ میں معافی مانگ سکتی ہوں۔۔ جب میں نے قرآن پڑھا تو سمجھ ائ کے غیبت کرنے والا کیوں جنت میں داخل نہیں ہوگا۔۔ اج ہم ایسے ہیں نہ کہ کوئی سامنے سے ہمیں کچھ سنا دے تو صبر کرنے کے بجائے اس کی خامیوں کو ہر ایک کو سناتے پھرتے ہیں کہ اس نے میرے ساتھ ایسا کیا۔۔ دوسرا یہ کہ ہم دل سے معاف نہیں کر پاتے۔۔ اس باعث ہمارے دل سخت ہوگئے ہیں۔۔ کبھی لگے تمہیں قرآن پڑھتے ہوئے تمہیں تمہارے گناہ یاد نہ اۓ تو سمجھ جائیں کہ دل سخت ہو چکا ہے۔۔۔ مایوس مت ہو جانا۔ اللہ رحمن ہے۔۔ ایک بار اس سے اعتراف کر لے کہ میں نادم ہوں اپنی غلطیوں پر۔ ۔ سچی توبہ کر لے کہ میں نے ساری زندگی غفلت میں گزاری۔۔ یقین مانیں وہ غفور و رحیم ہے۔۔ وہ اپکے سارے گناہوں کو پاک کر کے اپنے پاس لاۓ گا۔۔ اج مجھے سمجھ ائ کے نماز روزہ زکوۃ عبادات کو کر کے بھی لوگ جہنم میں کیوں جایینگے۔۔ کیوں یہ سب عبادات کام نہیں ائے گی۔۔ اصل میں ہم خود کے اندر جانکھنا چھوڑ دیا ہے۔۔ ہمیں جب تک دوسروں میں خامیاں نظر اتے رہے گی۔۔ تب تک ہم اپنے گناہوں کی طرف توجہ نہیں دے نگے۔۔ اج محفل میں چار لوگ بیٹھ جائیں تو سارے زمانے کے حالات بیان کرتے پھرتے ہیں۔ ایسا ہوا ہی نہیں کہ چار لوگ بیٹھے اور برائی نہ کرے۔۔ باتوں میں پہلے اۓ گا کہ۔۔ اس کی طلاق ہوئی۔۔ وہ ایسی تھی۔۔۔ وہ گھر والے ایسے ہیں۔۔ یہ لڑکی کے اخلاق اچھے نہیں ہے۔۔ سیدھے ہم دوسروں کے معاملات میں جا گھستے ہیں۔۔ کبھی سوچا ہے کہ ہم کیوں ایسے محفلوں میں جا بیتھٹے ہیں جہاں سے گناہوں کا اغاز ہوجاتا ہے۔۔ اج اگر حالات کی طرف نظر ڈوڑاؤں تو ہمارے نبی نے یہ کیوں کہا کہ سارا عالم دجال کے پیچھے چلا جاۓگا۔ کیوں امام مہدی کے ساتھ صرف بارہ ہزار مسلمان ہونگے۔۔۔۔ اج اگر کھولوں تو قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میرے کتاب پر ایمان لاؤ۔۔ ایمان کا مطلب جانتے ہو۔۔ اللہ کی ہر بات کو تسلیم کرنا۔۔ یعنی اللہ کی رضا میں راضی ہونا۔۔ اج لوگ
کہتے ہیں کہ مال جمع کر کے رکھو برے وقت میں کام اۓ گا۔۔ ہمارے دماغ میں یہی بات زہن نشین کی جاتی ہے کہ بچالو۔۔۔ savings... اور واقعی ان پر وہ برے دن ا بھی جاتے ہیں۔۔ ایسا میرے ساتھ کئی دفعہ ہوا ہے۔۔۔ جب قرآن پڑھنے لگی تو سمجھ ایا کہ قرآن میں ایک دفعہ بھی ذکر نہیں کیا کہ مال جمع کرو۔۔ کوئی ایک ایت ایسی ہو۔۔۔ اسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں ایمان ہمارا کیسا ہے۔۔ توکل ہی نہیں ہے۔۔۔ جیسے ہی مصیبت ا جاۓ ہم سوچتے ہیں کہ کاش ایسا نہ کیا ہوتا۔۔ جب توکل ہے اللہ پر تو کاش لفظ ہی نہیں اتا ہماری زبان پر۔۔ افسوس، مایوسی ۔۔۔ اس کاش شۓ سے شروع ہوتی ہیں۔۔ حالانکہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری رحمت سے مایوس مت ہونا۔۔ اج سوچوں تو اپنی زندگی پر افسوس تو ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے اللہ کی کتاب تھی۔۔ ہم خواب غفلت میں جی رہے ہیں۔۔۔ مجھے لگتا تھا کہ ہدایت کے مل جانے کے بعد زندگی اسان ہوجاۓ گی۔۔ پر معاملہ اس کے برعکس ہوگیا۔۔ اصل ازمائشیں تو وہی سے شروع ہوتی ہے۔۔ اور ہمارے سامنے پیغمبر اور صحابیات کے قصے موجود ہیں۔۔ جب وہ دین کی راہوں پر چلنے لگے تو ان پر بھی ازمائشیں ائ۔۔ اللہ ہم سے ہر چیز چھین کر ازماتا ہے کہ کیا میرا بندہ صبر کرتا ہے۔۔ یا پھر مشکلات میں اس کا وجود ڈگمگا جاۓ گا۔۔ میں نہیں جانتی کہ میری ازمائش کا سفر کب تک جاری رہے گا۔۔۔ پر مجھے امید ہے کہ جس قرآن کو تھاما ہے اور اللہ کے حکم پر راضی رہنے کا ارداہ کیا ہے تو مجھے یقین ہے کہ ازمائش کا یہ سفر اسان ہو جائے گا۔۔ یعقوب علیہ وسلم، ابراہیم علیہ وسلم، ایوب علیہ وسلم، یوسف علیہ وسلم یہاں تک کہ ہمارے نبی کریم ﷺ پر ایسے ایسے ازمائشیں ائ جو اج کا انسان برداشت نہیں کر سکتا۔۔ ان کے اپنوں نے انکا مزاق اڑایا تھا۔۔ ان پر ستم کئے۔۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دین پر چلنا اسان ہیں۔۔ صرف نماز روزہ زکوۃ حج کر کے ہم صرف مسلمان ہونے کی فارمولیتیس پورا کر رہے ہیں۔۔ اصل ایمان والے وہی ہے جو اسکی نازل کی ہوئی ایتوں کو ہماری روزمرہ زندگی میں شامل کرے جو کہ بہت مشکل ہے۔۔ پر ناممکن نہیں۔۔ جب تم ایسا کرنے لگو تو تمہارے مخالف سارہ زمانہ ہوگا۔۔ مگر تمہیں اسی قرآن کی باتوں کو عمل کرنا ہے جو تمہیں حکم دیا گیا ہے۔۔ جانتے ہو حکم کیا ہے۔۔ چاہے تمہارا نفس روک رہا ہو۔۔ پھر بھی تمہارا دل اس کی تعمیل کرنے پر امادہ ہوجائے۔۔ جب سامنے سے اپ کو طعنہ ملے تو اپ صبر کے ساتھ خاموش ہو جائے۔۔ اور حق بات پر ڈٹے رہے جو کہ نہایت مشکل ہے۔۔ خیر میرے لکھنے کا مقصد یہی تھا کہ ہو سکتا ہے کوئی ایک شخص بھی اسے پڑھ کر اپنا ایمان مضبوط کر لے اور اس کی دنیا و اخرت سنور جائے۔۔۔ کیونکہ میرا فرض تھا دین کو جان کر پھیلانا۔۔۔ باقی ہدایت دینے والی زات تو اللہ تعالی کی ہے۔۔ بے شک وہ جسے چاہے نوازدے۔۔
۔۔۔۔ ساجی
Comments
Post a Comment