Ham me se aj har ek ke andar firwaun chupa hua he
ہم میں سے آج ہر کسی کے اندر فرعون چھپا ہوا ہے ۔ اُس دور کا فرعون الگ تھا ۔۔۔ وہ خود کو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا ۔اور وہ چاہتا تھا کہ سب لوگ اُس سے ڈرے ۔ آج ہمارے اندر بھی کچھ اسی طرح کا فرعون چھپا ہوا ہے ۔بس الفاظ میں تھوڑی تبدیلی ا٘گئ ہے ۔۔ آج ہمیں کسی بھی رشتے میں تھوڑا سا اقتدار مل جاتا ہے تو ہم خود کو خدائی کے درجے پہ کھڑا کر دیتے ہیں ۔۔ مثال کے طور پر ۔۔۔ ماں باپ کا اولاد پر۔۔ کبھی کبھار ہم حقوق کے آڑ میں ہر وہ خواہش کی امید کرتے ہیں ۔۔ جو کبھی کبھار ناانصافی اور رشتے کی تلخی کا سبب بنتا ہے ۔۔ اور والدین کی بیجاہ ضد کبھی کبھار اولاد کے لئے سزا بن جاتی ہیں ۔۔ دوسرا شوہر کا بیوی پر ۔۔۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے مرد کو قوّام کہا ہے ۔۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اس پر حکمرانی کرے۔۔ بلکہ وہ اس کا محافظ اور مددگار ہوتا ہے ۔ وہ گھر کا سربراہ ہوتا ہے تاکہ وہ عدل کے ساتھ فیصلہ اور مشورہ کریں ۔۔۔ مگر آج وہی اقتدار کا ملتے ہی مرد خود کو خدائی کے برابر کر دیتے ہیں ۔۔ مثلاً جس کا شریعت میں الفاظ ہی نہ ہو وہ محض اپنی آنا و تسکین کے لیے اسے یہ کہہ کر حکم دیا جاتا ہے...