قبر کا اندھیرا اور قرآن کی روشنی
رات کے آخری پہر جب میں نے آنکھیں کھولیں تو لائٹ چلی گئی تھی ۔۔ کمرے میں چاروں طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ ایک وقفہ کے لیے سوچا کہ کل ایسا ہی اندھیرا میرے قبر میں ہوگا ۔۔ اور ایک تنگ سی جگہ میں مجھے ڈالا جائے گا ۔۔۔ پھر وہ سارے مناظر میرے سامنے موجود ہونگے جو میں کبھی زمین کے اوپر رہ کر کیا کرتیں تھیں ۔۔۔ آج میں مٹی کے اندر ہوں۔۔ نہ کوئی سائبان نہ کوئی مددگار ۔۔ بس ایک خوف اور بے چینی ۔ سوالات آسان تو ہے لیکن اسے زبان سےادا کرنا بہت مشکل ۔۔ افف سوچوں تو یہ خوف کھا جائے تو حقیقت میں ہونگے تو کیا حالت ہوگی۔۔۔ آج ہم زندہ ہے ۔۔ سانس لے رہے ہیں ۔۔ لیکن کیا پتہ کب یہ سانسیں آخری ہو۔ ۔۔ ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ کن کن کا کفن بازار میں آ چکا ہے ۔۔۔ لیکن ہم اس طرح جی رہے ہیں جیسے یہ دنیا سب کُچھ ہو۔۔۔ جب میں نے قرآن کو سوچنا اور سمجھنا شروع کیا تو میرے زندگی سے سارے سوالات ختم ہوگئے ۔۔۔ ہم نے صرف اسلام کے ستونوں کو اپنایا ہوا ہے ۔۔ باقی ساری عمارات کا کچھ نہیں پتا۔۔۔ میں نے قرآن سے جانا کہ کسی کے بارے میں صرف اپنے خیالات میں تجسس کرنا۔۔۔ پھر اسے زبان پہ لانا۔۔۔۔ کتنا بڑا گناہ ہے ...