Kya ham waqayi musalman he?

 لفظ ایمان کا مطلب ہے تصدیق و تسلیم کے ہیں۔۔ اب  بات اتی ہیں  کہ لفظ مومن کے معنی ہیں یقین رکھنے والے و تصدیق کرنے والے ہیں۔۔۔ اب اللہ تعالی نے بار بار مومن کا زکر کیا ہے۔۔ زرا اس کے لفظ پر توجہ دوگے بہت سی باتیں ابھر کر اۓ گی۔جانتے ہو وہ مومن کیا ہوتا ہے۔۔ جو اللہ پہ یقین رکھتے ہیں۔۔ اور جو اللہ پہ یقین رکھتے ہیں وہ اس کی کتاب پر بھی رکھتے ہونگے۔۔ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ اس دنیا میں قرآن پر مکمل طریقے پر عمل کرنا مشکل ہے۔ کوئی پوری طرح سے عمل نہیں کر پاتا۔ صرف نماز و روزہ قرآن کا اہتمام کرلو۔۔۔ کیا واقعی؟ میں سوچ میں پڑھ گئی۔ کیا سارا قرآن صرف انہیں موضوع پر لکھا گیا ہے۔۔  اگر صرف یہی عمل کرنا تھا تو صحابہ نے اتنی محنت کیوں کی۔۔۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے اسطرح تو اپنی امت کے لیے دعا ییں نہیں کی تھی۔۔ اج افسوس ہوتا ہے کہ واقعی مسلمان خسارے میں ہیں۔۔ مسلمان کے معنی پتہ ہے کیا ہوتا ہے اللہ کے سامنے اپنا سر تسلیم خم ہے۔۔ خم سے مراد جکھنا۔۔۔ اب یہاں اپ سوچ رہے ہونگے سجدہ کرنے کو کہتے ہیں۔۔۔ نہیں بالکل نہیں۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کی باتوں کو اپنا سر جھکا کر تسلیم کرے۔۔ پہلے زمانے میں راجہ مہاراجہ کا دور تھا اور وہاں کے پرجا اپنے مہاراج کے کہنے پر اپنا سرخم کر لیتے تھے۔۔ اب اگر کوئی اسکی باتوں کو نظرانداز کرتا تو اس کا وہی کام تمام ہوجاتا۔۔ جب مہاراج حکم دیتا تو وہاں کے پرجا بنا سوال کئے ہر چیز مان جایا کرتے تھے۔ سوچنے والی بات ہے نا کہ اج خود کو مسلمان کہتے ہوئے شرم اتی ہے۔  انی بھی چاہیے۔۔ جب ہمیں پتہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں تو ہمیں اللہ کے ہر باتوں کو تسلیم کرنا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو۔۔ ہم میں وہ ایمان موجود نہیں ہیں۔۔ ہم میں اس کے احکام کو ماننے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ ہم نے اسی دنیا کو سب کچھ مان لیا ہے۔۔ صرف نماز روزہ زکوۃ قرآن پڑھ کر اپنے آپ کو فخر کے ساتھ مسلمان ہونے کا ٹاٹیٹل دے دیتے ہیں۔۔ لیکن اصل احکام بھول جاتے ہیں۔۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے زندگی کو گزار کر دیکھایا۔۔ کیونکہ انے والی امت کو پتہ ہو کہ زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔۔ اب انکی سیرت صرف کتابوں میں موجود ہیں ہماری زندگی میں نہیں۔۔ جس طور وطریقہ کے ساتھ ہمارے یہاں شادی بیاہ ہو رہے ہیں ایسا قرآن میں کہیں موجود نہیں۔۔ ہمارے نبی نے نکاح کو اسان کیا ہے۔۔ اور اج لوگ کما رہے ہیں صرف اپنی شادی کے لئے۔۔ اپنے لیول کے مطابق۔ ۔ شادی کے بارے میں بات اتی ہے تو رسومات بھی اتے ہیں۔۔ صرف ایک بار سوچے کہ کیا واقعی ایسی شادی کرنے کو کہا تھا۔۔ دلہن کو زیورات دینا۔۔ مہندی کے ساتھ کیک اور دیگر اشیاء دینا۔۔  اسلامی کلچر ایسا ہوتا ہے۔۔ کس چیز کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔۔۔ بے جا اخراجات۔۔ اس تقریب سے جانے کتنے غریب بچوں کا پیٹ بھر جائے۔۔ کونسی زندگی گزار رہے ہیں ہم۔۔ ایسے گزار رہے ہیں کہ جیسے ہمیں مرنا نہیں ہے۔۔ انجوئے کے لیے نہیں ائے ہیں ہم۔۔ اللہ اور رسول کے مطابق زندگی گزارنے ائے ہیں۔۔ اس لیے اج کی شادیاں زیادہ دیر تک نہیں ٹکتی۔۔ فضول خرچی، رسم و رواج، بے پردگی،  پھر اوپر سے ایک دوسرے کے ساتھ کامپیتیشن، اسکے بعد روتے رہتے ہیں کہ ہمیں نظر لگ گئی ہے۔۔۔ ظاہر سی بات ہے نظر کا لگنا برحق ہے.  حالانکہ قرآن و سنت کے مطابق ایسی شادیوں کے بارے میں زکر ہی نہیں کیا۔ مجھے سورہ توبہ کی وہ آیت خوف کھائی جارہی ہیں کہ جس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں تم سارے منافقین کو ہلاک کردونگا اور تمہاری جگہ نئی قوم لاونگا۔۔۔ اس کا مطلب جو ایمان والے نہیں ہے انہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔ صرف وہی لوگ باقی رہیینگے جو پکے ایمان والے ہیں۔۔  اب خود سے اندازہ لگا لینا کہ کیا ہم پختہ ایمان رکھنے والے ہیں۔۔ کیا ہم اپنی اولاد کو صلاح الدین ایوبی جیسے شخصیت بنانے کے قابل ہیں۔۔۔ ہم سب کچھ بنا لیا اپنی اولاد کو لیکن سچا مومن نہیں بنا سکے۔۔ میں یہ سو فیصد یقین کے ساتھ کہہ رہی ہوں اب جو حالات ہماری زندگی میں انے والے ہیں وہ بہت خطرناک ہے۔۔۔ ۔ عزاب کافروں پر نہیں پہلے مسلمانوں پر ہی ایے گا۔۔۔۔ کیونکہ ہم صرف قرآن کو پڑھنے والے بن گئے ہیں۔۔ عمل کرنے والے نہیں۔۔۔ ہم نام کے مسلمان بن چکے ہیں۔۔ نہ ہم میں وہ پردہ باقی رہا نہ ہم میں وہ حسن اخلاق باقی رہا۔۔ نہ ہم نبی کی سنت اپنانے والے رہے۔۔۔ ہماری قوم دنیاوی زندگی میں مصروف ہوگئے ہیں۔۔۔ کھانا پینا اسکول دعوت شادیاں پاڑٹی۔ اسٹال۔ ایکزیبیشن۔ بازار۔ انہیں چیزوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔۔۔ مانتی ہوں حافظ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتے جارہی ہے۔۔۔ مگر کیا فائدہ اس حفظ قرآن کا جو سمجھ ہی نہ سکے۔۔ کیا فائدہ اس قرآن کی تلاوت کا جو یہ تک سمجھ نہیں سکے کہ اللہ کیا کہہ رہا ہے۔۔۔ نماز  میں ہم قرآن کی ایات پڑھتے ہیں لیکن اسکا مفہوم تک نہیں جانتے۔۔۔  ہم ہر نماز میں کتنی بار اھدنالصراطالمستقیم دہراتے ہیں۔۔۔ لیکن اس پر چلتے نہیں۔۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں تم مجھے ڈھونڈنے کی کوشش تو کرو، میں تمہارے پاس ہی ہوں۔۔۔ کیا ہم نے دنیاوی زندگی کو ساییڈ پر رکھ کر اللہ تعالی ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔۔ کیا کبھی خود کے اندر جھانکنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ کیا وجود ہے ہمارا۔۔ کیوں اس دنیا میں لائے گئے ہیں۔۔  لوگ کہتے ہیں کہ نماز پڑھو، قران پرھو،  روزہ رکھو۔۔ کافی ہے۔۔۔ واقعی۔۔ یہ بات انہیں لوگوں کو سنتے دیکھا ہے جو عالمیت کا کورس سیکھا ہے۔۔ کتنی حیرت کی بات ہے نا۔۔ اگر صرف فرض ہی پورا کرنا تھا تو اتنی سورتیں نازل ہی کیوں کیں۔۔ صرف دکھاوے کے لئے۔۔ نعوذ باللہ۔۔ اللہ تعالی نے حسن اخلاق  کو سب سے بھاری اور وزنی نیکی کیوں کہا کہ ہے۔۔۔ پتہ ہے۔۔۔ اچھا تو اتنا ہی بتا دے کہ حسن اخلاق ہوتا کیا ہے۔ ۔ لفظ ِ حسن کے معنی ہیں خوبصورت اور اخلاق کہتے ہیں کردار، عادت، خصلت  کو۔۔۔  ہم جو کسی کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں اسے اخلاق کہتے ہیں۔ اب  حسن اخلاق یعنی خوش اخلاق، اچھا مزاج رکھنے والا، دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے والا۔۔ اب اپ یہاں خود کا جائزہ لے لیا جائے کہ کیا واقعی حسن اخلاق زندہ ہے ہمارے اندر،۔ ہم چاہے کسی بھی رشتہ میں بندھے ہوئے ہو۔ ماں باپ، بہن بھائی، خاوند بیوی ، ساس سسر ساس بہو، نند بھابھی، والدین اور اولاد، ان سارے رشتوں میں اخلاقیات باقی ہیں۔۔ یہاں ہم خاموش ہو جائے تو سامنے والا ظالم سمجھ کر کھری کھوٹی سنا کر چلا جاتا ہے۔ میرے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں خاموش رہتی ہوں، پلٹ کر جواب تک نہیں دیتی۔۔ اب اگر میں یہ شکایت اللہ سے بیان کروں تو کیا تم تیار ہو اللہ سے مقابلہ کرنے کے لیے۔ کیوں اپنی زبانوں کو  حفاظت نہیں کرتے، ایسی بات ہی کیوں کرنا جس سے دل ازاری ہو۔  اگر وہ بندہ صبر کر لے تو یقین مانو تمہاری دنیا و اخرت برباد ہو جائے گی۔۔ میری زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے طعنے دئیے، دل ازاری کئے، یہاں تک کہ الزامات تک لگاۓ۔ جانتے ہو افف تک نہیں کہا انھیں۔۔ اسلیئے نہیں کہ میں کمزور ہوں۔ اسلئے کہ میں نے اللہ پر وہ معاملہ چھوڑ دیا۔۔ میرے والد نے ایک بار کہا تھا میرے سامنے کہ جو دوسروں کی اولاد پر ظلم کرتے ہیں۔۔ بعد میں جا کر عزاب انکی اولاد پر اتی ہے۔۔ ہم ہمیشہ دوسروں کی اولاد کو طعنہ دیتے ہیں، ان پر مزاق اڑاتے ہیں، اور یہاں ہر لڑکی کی شکایت اپنے سسرال کو لے کر ہوتی ہے۔۔ ایسے واقعات بہت سنے ہیں میں نے۔۔ عموماً بھٹکل میں جہاں دین زیادہ موجود ہیں۔۔ مگر افسوس وہاں حسن اخلاق قائم نہیں رہا۔۔ افسوس کی بات ہےیہاں صرف فرض کی بات ہوتی ہے حسن اخلاق کی نہیں۔۔ ہر کوئی اتا ہے اپنا غصہ بے جا نکال کر چلا جاتا ہے۔۔ لیکن صبر کوئی کوئی کرتا ہے۔۔ اور یہ حرکتیں وہی کر رہے ہیں جو پانچ کی نماز کرتے ہیں، تہجد گزار ہے، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، معزرت کے ساتھ بات تلخ ہے لیکن حقیقت ہے، تم امت محمدیہ ہو، ہمارے نبی کریم ﷺ نے زندگی گزار کر دیکھائی کہ کس طرح زندگی گزارنی ہے۔۔ تم خود دیکھ لینا کیا واقعی ہم ان کے طریقے سے زندگی گزار رہے ہیں۔۔ ان کے طریقے سے شادیاں کر رہے ہیں، یہاں تک کہ گھروں میں نامحرم کا انا جانا لگا ہوتا ہے۔ اور ہمارے بڑے خاموش ہیں۔ کیوں؟  کیوں اپنی نسلوں کو عزاب الہی کا شکار کر رہے ہیں۔۔ کیوں دوسری تہذیب کو اپنا رہے ہو۔۔ کیا ہمیں نبی کریم ﷺ نے نہیں سکھایا کن لوگوں سے پردہ ہے کن لوگوں سے نہیں۔۔ سچ مانوں مجھے خود اس کا اندازہ نہیں تھا۔۔ مجھے لگتا تھا سب سے زیادہ دین ہمارے یہاں ہے۔۔ پر جس طرح میں نے قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھتی گئی۔ میری سوچ و افکار بدلتے گئے۔ انکھوں سے سیاہ پٹی اترتی چلی گئی۔۔ غلط صحیح نظر اتا گیا۔۔ اور میں واقعی سوچ میں پڑنے لگی کہ کوئی مسلمان قرآن کو تھامتے ہوۓ بھی گمراہی کی طرف جاسکتا ہے۔۔ مجھے لگتا ہے ہم سبھی کو ہمیشہ ہدایت کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔۔  کیونکہ ہدایت ہی واحد نعمت ہے جو ہمیں اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔۔ خیر باتیں تو بہت تھی پر یہ کچھ الفاظ جو میرے دل میں موجود تھے۔۔ جنہیں بیان کرنا ضروری تھا۔۔ صرف اس لئے کہ ہماری قوم جاگ جائے۔۔ ہماری قوم اس وقت خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی ہے۔۔ جنہیں جگانا بےحد ضروری ہے۔۔ اللہ سے بس یہی دعا ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔ 



                  ۔۔۔۔۔۔۔۔ ساجی۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Comments

Popular posts from this blog

School se college tak ka safar

Kuch is tarah maza lo Zindagi me part 1

Tere sang chale novel (part 9)