بہت عرصے بعد قلم اٹھانے کا موقع ہوا ۔افف شبد تو بہت ہیں۔ مگر شروعات کہاں سے کروں سمجھ نہیں آتا۔ وہ کہتے ہیںنہ تحریر جب لکھنے بیٹھ جاؤں تو الفاظ کے سمندر میں کھو جاتے ہیں۔زندگی اۓ دن ہمیں بہت کچھ سیکھا تے چلے جاتی ہے ۔ اور ہم اسی سیکھ میں الجھ گئے ہوتے ہیں ۔۔ کہتے ہیں کہ کسی انسان کی اکیلے میں دی گئی نصیحت انسان کو بہت متاثر کرتی ہیں ۔۔ اور ایسے کئ شخصیات ہیں جنہوں نے مجھے تراش کر جوہر بنادیا ۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میں دو ماہ کے لۓ کلاسس لینے گئ تھی اور ان دو ماہ کے آخر میں اس اساتذہ(گلشدہ) نے کہا تھا ۔۔ یوں تو بہت سارے بچے اۓ کلاسس لینے پر تمہاری بات کچھ اور تھی۔۔ ہو سکتا ہے آگے تمہیں اور اچھے استاد مل جائے ۔ پر تم جیسی شاگرد مجھے اور نہیں مل سکتی ۔ پھر مجھے ساتویں جماعت کے لئے انجمن جانا پڑا ۔ وہاں میری ملاقات دوسرے اساتذہ سے ہوئی ۔۔ ایک سال مکمل ہو...
Part 9 (Zindagi ke kayi matlab hote he, koi dusraw ke liye jita he to koi khud ke liye. Koi kisi maqsad ke tahet apni zindagi guzarta he to koi bina maqsad ke zindagi guzaarta he. Zindagi me nasheeb o faraz ate rehte he, koi gir kar chalne lagta he to koi chalte chalte gir jata he. Magar hosalamand afraad apni zindagi me sanbhal kar chalte he.. ) Tani, Tani... (Khala ki awaz par mai niche chali ayi.) Apne mujhe bulaya. Haan to, kab se upar apne kamre ho tum.. dinner ka time bhi ho raha he. Akele akeli mai bhi bored ho jati hu.. tum to niche aakar mere paas bhait Jaya karo. Haan boliye, lo, apke paas bhait gayi. (Mai khala ke paas sofe par bhait gayi jahan khala akhbar padhne me munhamiq thi.) Acha to mere ane ke baad khud akhbar hataw me liye bhaiti he.. (Maine unhe gour se dekha. Khabi khabar unke chehre par mujhe apni mama ka aks nazar ata tha. ) Tume to awaz de kar thak gayi. Waise ye batao iram ke jane ke baad bhi tum niche nahi ayi. Kya h...
۔۔۔۔ اسلام و علیکم میں روز دعا کرتی تھی کہ یالله مجھے ہدایت دے۔۔۔ مجھے توفیق دے کہ میں اس کے صحیح راستہ پر ایمان لاو۔ لیکن ہدایت کا مفہوم اتنی اچھی طرح سے سمجھ نہیں پائی۔ پھر چند ہفتے پہلے میرا دل کسی باعث بوجھل تھا۔۔۔ اور اس رات زندگی میں پہلی بار یہ دعا کی کہ یارب میں تیرے لیے اس دنیا کو چھوڑ رہی ہوں۔ اس دنیا کی محبت یہاں کے لوگوں سے توقع، اپنی خواہشات سب کچھ صرف اور صرف تیرے لئے چھوڑ رہی ہوں۔اور ان سب کو میں نے دل سے معاف کر دیا جو میرے لئے کبھی دکھ اور انسو کے باعث ہوا کرتے تھے۔۔کہتے ہیں نہ ہدایت اس طرح ہمارے ہمارے اندر داخل نہیں ہوتی۔ اسے داخل ہونے کے لئے دل کا راستہ پاک کرنا پڑتا ہے۔۔ بھلا نفس اور میلے دل میں کبھی ہدایت داخل ہو سکتی ہے۔ خیر دوسرے دن مجھے وہ شرف حاصل ہوا کہ میں قرآن کو صحیح ترجمہ کے ساتھ پڑھوں۔ پہلی بار زندگی میں قران کو تھامتے ہوۓ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔ اس سے پہلے روزانہ تو پڑھ لیا کرتی تھی۔۔ لیکن وہ کیفیت اس وقت نہیں ہوئی جو اج مجھے ہو رہی تھی۔۔۔ خیر سورہ بقرہ کی پہلی...
Comments
Post a Comment